مہسانا/گجرات،8 دسمبر (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) پاٹی دار تحریک کا مرکز مہسانا وزیر اعظم نریندر مودی کے آبائی شہر وڑنگر سے 35 کلومیٹر دور ہے اور دونوں شہر کو جوڑنے والی سڑک خراب ہے۔یہاں سے وڑنگر جارہی ریاست گجرات ٹرانسپورٹ کارپوریشن کی بس میں بڑی تعداد میں طلبہ سوار ہیں جن میں سے زیادہ تر مقامی کالج میں بی ایس سی کے طلبہ ہیں اور گجرات اسمبلی انتخابات کے 14 دسمبر کو ہونے والے دوسرے مرحلے کی پولنگ میں پہلی دفعہ اپنے حق رائے دہی کا استعمال کریں گے ۔ مہسانا اور وڑنگر مہسانا ضلع میں آتے ہیں. وڑنگر انجھا حلقہ میں آتا ہے جبکہ مہسانا شہر ایک دوسرا علاقہ ہے ۔ ان 12 ملین نئے ووٹروں کے ذہن میں سیاست کے علاوہ بھی کئی مسائل کلبلارہے ہیں ۔ ان ہی میں شامل ہیں لکشمی پٹیل اور جشونت سنگھ۔ دونوں قریبی دوست ہیں لیکن ان کے سیاسی خیالات بالکل الگ الگ ہیں۔ لکشمی پاٹی دار تحریک کمیٹی کے سربراہ ہاردک پٹیل کے سخت حامی ہیں جبکہ یشونت کے رجحانات بی جے پی کی طرف ہیں ۔ لکشمی کا کہنا ہے کہ یہ ماننا غلط ہے کہ پٹیل کمیونٹی کے تمام لوگ امیرہوتے ہیں، ہم میں سے کسی کے پاس سرکاری نوکری نہیں ہے، زمین اتنی زیادہ نہیں ہے کہ پورے خاندان کی کفالت ہوسکے ؛ اس لیے ہمیں ریزرویشن کی ضرورت ہے۔ووٹروں میں پٹیل 12 فیصد ہیں۔ ان میں سے چھوٹی برادری ہے کڑواور لیوا۔ واضح ہو کہ ہاردک پٹیل اور لکشمن کڑوا جیسی چھوٹی برادری سے تعلق رکھتے ہیں ، جن کی تعداد کم ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ریاست میں 182 سیٹوں میں سے تقریبا 60 نشستوں کے نتائج کو وہ متاثر کرنے کی طاقت رکھتے ہیں ۔ عددی طاقت کے معاملے میں لیوا برادی کے افراد زیادہ ہیں۔ سابق وزیر اعلی آنندی بین پٹیل اسی چھوٹی برادری سے رکھتی ہیں۔یشونت کا خیال ہے کہ بی جے پی پانچویں بار زوردار جیت درج کرے گی۔ اس بس میں سوار دیگر طالب علم وکرم چوہدری، دھول چودھری، وکاس چودھری اور نکھل دیسائی تمام او بی سی طبقہ سے ہیں ۔ ا ن میں سے ایک وکاس نے کہا کہ وڑنگر کا رشتہ مودی سے ہے، مودی خود بھی او بی سی ہیں، کوئی بھی دوسرے پارٹی وہاں موجودگی درج نہیں کروائے گی۔ ہمارے ارد گرد ترقی اور ’’ وکاس ‘‘ ہو رہا ہے۔ لیکن قابل غور امر یہ ہے کہ یہ وکاس محض کاغذوں اور بی جے پی لیڈران کے علاوہ ان کی حامیوں کو ہی نظر آتاہے ، پہلی بار ووٹ ڈالنے جا رہے نوجوانوں کے لئے ترقی اور روزگار کا مسئلہ اہم ہے۔ ان کے لئے 2002 کے انسان کش فسادات خاص معنی نہیں رکھتے۔ایک اور طالب علم ہتیش سولنکی مانتے ہیں کہ راہل گاندھی کو ایک موقع دیا جانا چاہئے۔گجرات میں پہلے مرحلے کی ووٹنگ نو دسمبر کو اور دوسرے مرحلے کے 14 دسمبر کو ہونا ہے، نتائج 18 دسمبر کو آئیں گے۔